الف اردو

کورونا وائرس

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کورونا وائرس (کوو) دراصل وائرسز کا ایک بہت بڑا خاندان ہے جو عام نزلے زکام سے لےکر زیادہ سنگین بیماریوں جیسے مڈل ایسٹ ریسپریٹری سنڈروم (مرس-کوویڈ) اور شدید ایکیوٹ ریسپریٹری سنڈروم (سارس-کوویڈ) کی بیماریوں تک کا سبب بنتا ہے۔ 2020 میں چین سے پھیلنے والا "ناول کورونا وائرس" (این کوو) انہی وائرسز کی ایک نئی لڑی ہے جو پہلے کبھی انسانوں میں نہیں دیکھی گئی۔ اس سے پھیلنے والی بیماری کو "کوویڈ-١٩" کانام دیا گیا ہے-
تمام کورونا وائرسز زونوٹک ہیں ، یعنی جانوروں اور لوگوں کے مابین منتقل ہو سکتے ہیں۔ بہت سی اقسام کے کورونا وائرس جانوروں میں گردش کر رہے ہیں جو ابھی تک انسانوں کو متاثر نہیں کرسکے لیکن مستقبل میں نئی بیماریوں کا سبب ہوسکتے ہیں- انفیکشن کی عام علامات میں نزلہ زکام ، بخار ، کھانسی ، سانس کی قلت اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ زیادہ سنگین صورتوں میں یہ انفیکشن نمونیہ ، شدید سانس لینے کے سنڈروم ، گردے کی ناکامی اور یہاں تک کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

حال ہی میں دریافت ہوا کرونا وائرس اور کوویڈ ۔19 کی بیماری


کوویڈ ۔19 ایک متعدی بیماری ہے جو حال ہی میں دریافت ہونے والے کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ نیا وائرس اور بیماری دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہوئی۔
کوویڈ ۔19 کی سب سے عام علامات بخار ، تھکاوٹ اور خشک کھانسی ہیں۔ کچھ مریضوں کو درد ، ناک میں نزلہ جمنا یا بہنا ، گلے میں سوزش یا اسہال ہوسکتا ہے۔ یہ علامات عام طور پر ہلکی ہوتی ہیں اور آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ انفیکشن میں مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن ان میں کچھ عرصہ تک کوئی علامت پیدا نہیں ہوتی اور وہ بیمار بھی نہیں ہوتے۔

ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ اس مرض کے شکار زیادہ تر لوگ (تقریبا 80٪) خصوصی علاج کی ضرورت کے بغیر اپنے آپ شفایاب ہوجاتے ہیں۔

اب تک کے شواہد کے مطابق کوویڈ 19 میں مبتلا ہر 6 میں سے 1 فرد شدید بیمار پڑسکتا ہے۔ عمر رسیدہ افراد ، اور ان لوگوں کو جو عام پائی جانے والی بیماریوں جیسے ہائی بلڈ پریشر ، دل کی دشواریوں یا ذیابیطس سے دوچار ہیں ، سنگین بیماری کا امکان زیادہ ہے۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے 2٪ کے قریب لوگ وفات پاچکے ہیں اور تقریبا تمام کے تمام زیادہ عمر کے تھے۔ بخار ، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کے شکار افراد کو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہئے۔
کوویڈ ۔19 کا وائرس ویسے ہی پھیلتا ہے جیسے کہ ایک عام وائرس۔ چھینک، کھانسی یا بعض اوقات سانس کے ساتھ ناک یا منہ سے خارج ہونےوالی رطوبت کی چھوٹی چھوٹی بوندیں ایک سے دوسرے انسان میں وائرس منتقل کرنے کا سب سے آسان ذریعہ بنتی ہیں- یہ بوندیں یا چھوٹے چھوٹے قطرات یہ تو براہ راست کسی اور کے سانس کے ساتھ اندر چلے جاتے ہیں یہ اس شخص کے آس پاس پڑی اشیاء اور سطحات پر گرتے ہیں ۔ دوسرے لوگ ان اشیاء یا سطحات کو چھوکر ، اپنی آنکھوں ، ناک یا منہ کو لگاتے ہیں اور وائرس منتقل کرلیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیمار شخص سے 1 میٹر (3 فٹ) سے زیادہ دور رہنا ضروری ہے۔
کوویڈ ۔19 کے اتنے کامیابی سے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر کیسز میں تقریباً چودہ دن تک متاثرہ شخص میں بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی - اور اس وقت تک وہ انجانے میں کئی مزید لوگوں میں یہ وائرس منتقل کر چکا ہوتا ہے-

انفیکشن پھیلنے سے بچنے کے لئے معیاری سفارشات میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا یعنی باقاعدگی سے صابن سےاچھی طرح ہاتھ دھونا، کھانسی اور چھینکنے کے وقت منہ اور ناک کو ڈھانپنا، کھانے کی چیزوں خاص طور پر گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح سے پکانا شامل ہیں۔ سانس کی بیماری کی علامات جیسے کھانسی اور چھینک آنے والے کسی کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں۔
ماسک پہننا بیماری سے بچاؤ کی کوئی گارنٹی نہیں ہے تاہم یہ آپ کو دوسروں کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے ڈراپ لیٹس سے دور رکھ سکتا ہے-

کوویڈ ۔19 ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے ، لہذا اینٹی بائیوٹکس اس وائرس کے خلاف کام نہیں کرتے، وہ صرف بیکٹیریل انفیکشن پر کام کرتے ہیں۔۔ اینٹی بائیوٹکس کو کوویڈ 19 کے روک تھام یا علاج کے ذرائع کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ بیکٹیریل انفیکشن کے علاج کے لئے ان کو صرف معالج کی ہدایت کے مطابق استعمال کیا جانا چاہئے۔